ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا بجٹ : ڈانڈیلی کو تعلقہ کا درجہ؛ کاروار کے لئے ایئر پورٹ ؛ منگلورو میں حج ہاؤس؛ مگر بھٹکل کے عوام کے ساتھ وعدہ خلافی

کرناٹکا بجٹ : ڈانڈیلی کو تعلقہ کا درجہ؛ کاروار کے لئے ایئر پورٹ ؛ منگلورو میں حج ہاؤس؛ مگر بھٹکل کے عوام کے ساتھ وعدہ خلافی

Wed, 15 Mar 2017 22:13:04    S.O. News Service

بھٹکل 15؍مارچ (ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے اس بار بجٹ پیش کرتے ہوئے ضلع شمالی کینرا کے عوام کو 2تحفے دینے کا اعلان کیا ہے۔ جس میں ڈانڈیلی کو تعلقہ کا درجہ دینا اور کاروار میں ایئر پورٹ کی تعمیر شامل ہے۔جبکہ ضلع جنوبی کینرا کے منگلورو میں حج ہاؤس کی تعمیر کے لئے فنڈ مختص کیا گیا ہے، البتہ بھٹکل کی دیرینہ مانگ ڈرینج سسٹم کے لئے بجٹ میں اس بار بھی کوئی اعلان نہیں ہوا ہے، جس پر بھٹکل کے عوام میں مایوسی پائی جارہی ہے۔

بجٹ برائے سال 2017 پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ریاست کے 21اضلاع میں جملہ 49نئے تعلقہ جات تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے کچھ اضلاع کی تفصیل یوں ہے: ۱۔ ضلع باگلکوٹ میں گولیدا گُڈا، رباکویبنا ہٹّی اور اِلکل ۲۔ ضلع بیلگاوی میں نیپّانی، موڈلگی اور کاگواڈ ۳۔ ضلع داونگیرے میں نیامتی ۴۔ضلع بیدر میں چیٹ گوپّا، ہولسورواور کملا نگر ۵۔ضلع بلّاری میں کوروگوڈو، کوٹّورو، اورکمپلی ۶۔ دھاواڑ ضلع میں انّی گیری، الناور اور ہبلی شہر
۷۔ ضلع گدگ میں گجیندر گڑھ اور لکشمیشور ۸۔ کلبرگی ضلع میں کالگی، کملا پور، یڈراوی اور شاہپور ۹۔ یادگیر ضلع میں ہونڈسگی، وڈگیرے اور گرو میٹکل
۱۰۔ ضلع کوپل میں کوکنورو، کنکا گری اور راٹگی ۱۱۔ رائچورضلع میں مسکی اور سروار ۱۲۔ اڈپی ضلع میں بیندورو، برہماور اور کاپو ۱۳۔ جنوبی کینرا میں موڈبدری اور کڈبا
۱۴۔ ضلع شمالی کینرا میں ڈانڈیلی 

وزیر اعلیٰ نے ریاست میں جن تین مقامات پر نئے ایئر پورٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے اس میں کاروار کا نام بھی شامل ہے۔ جبکہ مڈیکیرے اور چکمگلورو دوسرے دو مقامات ہیں جہاں ایئر پورٹ تعمیر ہونے والے ہیں ۔چونکہ کاروار شہر میں بندرگاہ، ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ کی سہولت پہلے ہی سے موجود ہے اس لئے بجا طور پرامید کی جارہی ہے کہ نئے ایئر پورٹ سے نہ صرف کاروار اور اطراف کے عوام کو راحت ملے گی بلکہ ضلع کی ترقی اور خوشحالی کے مزید مواقع پیدا ہونگے۔

اس کے علاوہ اس بجٹ میں وزیر اعلیٰ نے منگلورو میں حج ہاوس کی تعمیر کے لئے 10کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ریاست میں جو اردو سرکاری اسکول بند ہوچکے ہیں کہ ان کی جگہ آئندہ 2برسوں میں 200مولانا آزاد ماڈل اسکول قائم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اڈپی میں تیراکی کی تربیت کے لئے swimming academyبھی قائم کرنے اور تمام تعلقہ جات کے سرکاری اسپتالوں میںICUکی سہولت فراہم کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

ریاستی بجٹ پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے قائد قوم جناب ایس ایم سید خلیل الرحمن نے اس بجٹ کوریاستی عوام کے لئے خوش کن مگر بھٹکل والوں کے لئے مایوس کن بجٹ قرار دیا، اسی طرح بھٹکل کے ایک اور این آر آئیز جناب عبدالرحمن صدیقی نے اسے آئندہ ہونے والے انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا نے بجٹ میں کئی نئی اسکیموں کو  متعارف کرایا ہے اور بنگلور اور مینگلور کو ترقی دے کر ورلڈ کلاس سٹی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے،  مگر بھٹکل کے انڈر گرائونڈ ڈرینیج  پروجکٹ کے لئے وزیراعلیٰ نے کوئی اعلان نہیں کیا حالانکہ موصوف تنظیم کے صدسالہ جشن کے موقع پر بھٹکل میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اس مسئلہ کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔


Share: